خیبر ایجنسی میں کمپیوٹر اور موبائل فون کے کاروبار کو بندش کا سامنا
کاروباری افراد دیگر شہروں کو نقل مکانی یا کوئی اور کاروبار کرنے کا سوچ رہے ہیں
ایم ابراہیم
2012-02-03
خیبر ایجنسی – چوبیس سالہ اویس خالد کو کبھی یہ امید تھی کہ پاکستان میں اعلٰی ٹیکنالوجی کے آلات کی فروخت ایک منافع بخش کاروبار ہو گا مگر چار ماہ بعد ہی انہیں پتا چلا کہ ان کا کاروبار عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میری دکان کی عمارت تباہ ہونے سے میں اپنی دکان، اس میں موجود سامان اور نقدی سے محروم ہو گیا۔ عسکریت پسندوں نے 10 جنوری کی رات لنڈی کوتل میں واقع خالد موبائل سینٹر کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا تھا۔ کم از کم 12 دکانوں اور ایک ایک کمرے کے سات فلیٹوں پر مشتمل یہ کمپلیکس زمین بوس ہو گیا۔
یہ ابھی ستمبر کی بات ہے جب اویس نے کالج کی تعلیم چھوڑ کر میڈیکل کے شعبے میں جانے کے خوابوں کو ترک کر دیا اور اپنی بیوی اور دو بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے لنڈی کوتل میں ایک دکان کرایے پر لے لی۔
اب ان کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا کاروبار جاری رکھنے کے لئے انہیں یا تو اپنے آبائی شہر سے کہیں اور نقل مکانی کرنا پڑے گی یا پھر کوئی اور کام تلاش کرنا پڑے گا۔
طالبان کی ایک ذیلی شاخ پر مشتمل مقامی عسکریت پسند گروپ عبد اللہ عزام بریگیڈ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ گروپ نے اس سے قبل لنڈی کوتل میں موبائل اور کمپیوٹر کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے کاروبار بند کر دیں یا پھر انتقامی کارروائیوں کے لئے تیار ہو جائیں۔
اویس نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ یہ انتباہ مبہم تھا کیونکہ عسکریت پسندوں نے ہمارا کاروبار بند کرانے کی کوئی مخصوص وجہ نہیں بتائی تھی۔
یہ حملہ طالبان کے تازہ ترین نشانوں کا ایک تسلسل تھا کیونکہ عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ موبائل فون (خاص کر کیمرے والے) اور کمپیوٹر غیر شرعی آلات ہیں جن سے فحش تصاویر اور فلموں کی ترسیل اور شراکت کی جا سکتی ہے۔ موبائل فون اور کمپیوٹر کے کاروبار پر پہلا مبینہ حملہ دسمبر میں وانا میں ہوا تھا۔
لنڈی کوتل کے ایک مقامی عہدیدار زر باچہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ عسکریت پسندوں نے الزام لگایا ہے کہ انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ موبائل فون اور کمپیوٹر فروخت کرنے والی بعض دکانوں پر غیر شرعی، قابل اعتراض اور فحش مواد فروخت کیا جا رہا ہے۔
دھمکیوں کے باعث کاروبار ٹھپ
لنڈی کوتل کے سیاسی منتظم خالد ممتاز کنڈی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ ان کی انتظامیہ تمام کاروباری مالکان کو تحفظ فراہم کرنے کو تیار ہے۔
تاہم اس وعدے کے باوجود تاجروں کا کاروبار کے لئے درکار اعتماد بحال نہیں ہو سکا ہے۔ عسکریت پسندوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے باعث لنڈی کوتل میں موبائل فون کے 1 سو 8 ڈیلروں میں سے تقریباً نصف نے اپنے کاروبار تبدیل کر لیے ہیں یا پھر وہ دیگر مقامات کو منتقل ہو گئے ہیں۔
اویس نے بتایا کہ بہت سے موبائل اور کمپیوٹر ڈیلروں نے دیگر جگہوں پر دکانیں کھول لی ہیں جن میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار کا دارالحکومت جلال آباد بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس وہاں دکان کھولنے کے لئے کافی رقم نہیں ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطے میں موبائل فون کے کاروبار میں اضافہ اتنا ترغیب آمیز ہے کہ وہ عسکریت پسندوں سے تنگ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ خیبر ایجنسی میں شراکت کی بنیاد پر دکان کھولنے کا سوچ رہے ہیں۔
خیبر ایجنسی کے ایک علاقے باڑہ میں کالعدم عسکریت پسند گروپ لشکر اسلام نے کافی عرصے سے کیمرے والے موبائل فونز اور ان میں موسیقی والے رنگ ٹونز پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
باڑہ کے علاقے شلوبر کے ایک رہائشی احسان اللہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اس پابندی کو عائد ہوئے پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور باڑہ میں موبائل ڈیلروں نے اپنا کاروبار کافی عرصہ پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لشکر اسلام کے سرگرم کارکنوں نے باڑہ میں اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو سرعام کوڑے لگائے اور ان کے سر مونڈ دیے۔
عسکریت پسندوں کی دھمکیاں دور رس ہیں
حملوں سے بچنے والے کاروباری مالکان کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔
لنڈی کوتل میں کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ایک ڈیلر محمد وہاب نے بتایا کہ ان کا کاروبار بند ہونے کے قریب ہے۔
سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک سال قبل ہماری مارکیٹ میں عسکریت پسندوں نے پمفلٹ تقسیم کیے جن میں ہمیں موبائل سیٹوں میں موسیقی والے رنگ ٹونز اپ لوڈ کرنے اور فحش سی ڈیز اور انگریزی فلمیں فروخت کرنے کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔
وہاب نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے موبائل اور کمپیوٹر کے کاروبار کی مخالفت کی منطق سمجھنا دشوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے بیروزگار تعلیم یافتہ قبائلی نوجوانوں نے اپنی جمع پونجی ان دونوں کاروباروں پر لگا دی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہ صاف ستھرا اور کم قابل اعتراض کام تھا۔
وہاب نے کہا کہ ان کے علاقے میں کم از کم 2 سو خاندان کمپیوٹر اور موبائل فون کے کاروبار پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور اب ان میں سے بیشتر مالی مشکلات کے شکار ہیں۔
وہاب نے کہا کہ وہ کسی محفوظ مقام پر نئے سرے سے آغاز کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور شاید وہ پشاور چلے جائیں۔
دھمکیوں کی طویل تاریخ
عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں مگر اب ان کا ہدف تبدیل ہو چکا ہے۔
اگست 2007 میں لنڈی کوتل کے تین سی ڈی مراکز میں یکے بعد دیگرے ہونے والے چار بم دھماکوں کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب دکانیں تباہ ہو گئیں اور سی ڈی کا کاروبار بند ہو گیا۔
صبر ولی میوزک سینٹر کے مالک صبر ولی اب طورخم کے علاقے میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ انہوں نے 2007 میں دہشت گردوں کی جانب سے خود کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد موسیقی کے کاروبار کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
انہوں نے کہا ہمیں جلدی میں سامان باندھ کر کاروبار ختم کرنا پڑا کیونکہ انتہاپسند گروپوں نے ہمیں دھمکیاں دی تھیں کہ اگر ہم نے ان کا انتباہ نہ سنا تو وہ مزید ایسے حملے کریں گے اور ہمارے گھروں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔ ہم میں سے بعض دکانداروں نے مذہبی سی ڈیز فروخت کرنے کی بھی کوشش کی مگر ان کے خریدار بہت کم تھے۔









رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )