خودکش بمبار تدفین کے عمل سے محروم

علماء کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار انتہائی بدقسمت لوگ ہیں

اشفاق یوسف زئی

2012-03-28

پشاور – علماء کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ مرنے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔

پار ہوتی، مردان کے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ خودکش بمبار روئے زمین پر سب سے بدقسمت لوگ ہیں کیونکہ مرنے کے بعد انہیں نہ تو عام مسلمانوں کی طرح غسل دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی اسلامی طریقے سے تدفین ہوتی ہے۔

مردان کے علاقہ پار ہوتی کے محلہ نیو اسلام آباد میں امام کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ انہیں رحمان اللہ کی حالت پر افسوس ہے جسے نماز جنازہ پڑھائے بغیر ہی دفن کر دیا گیا۔ 17 سالہ رحمان اللہ نے گزشتہ سال ستمبر میں افغان اور اتحادی فورسز پر خودکش حملہ کیا تھا۔

رحمان اللہ کے والد غفران خان ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا اب تک غم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے رحمان اللہ کو اغوا کر کے اس کے ذہنی خیالات تبدیل کر دیے تھے۔ انہیں اپنے بیٹے کی لاش یا اس کی تدفین کا عمل دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا تاحال یقین نہیں ہے۔

عسکریت پسندوں کی گرفت سے آزاد ہونے والے بعض افراد

اسی علاقے کے ایک اور لڑکے سیف اللہ کو اس وقت اپنی جان بچانے کے لئے فرار ہونا پڑا جب طالبان نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے مئی 2005 میں القاعدہ کے سینئر رہنما ابو فراج اللبی کی مردان سے گرفتاری سے پہلے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کی تھیں۔

اس کے والد نے بتایا کہ طالبان سیف اللہ کو اغوا کرنے میں ناکام رہے اور وہ بالآخر جرمنی پہنچ گیا۔ دیگر افراد نے اس کے والد کو اپنے بیٹے کے بحفاظت جرمنی پہنچ جانے پر مبارک باد دی ہے۔ سیف اللہ کے والد نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ اگر طالبان میرے بیٹے کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کر لیتے تو وہ غسل، نماز جنازہ اور تدفین سے محروم رہ جاتا، جو کہ مسلمانوں کے لئے موت کے بعد اہم رسومات ہیں۔

پشاور کے علاقے داؤد زئی کے ایک امام اجمل شاہ نے واضح لفظوں میں ان رسومات کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے طالبان کی جانب سے نوعمر لڑکوں کو خودکش بمبار بننے کی ترغیب دینے کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خودکش بم دھماکے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو دھماکے سے اڑا کر بے گناہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے والے افراد کے لئے جنت میں کوئی جگہ نہیں جیسا کہ ان کے تربیت کاروں نے ان سے وعدہ کیا تھا۔

طالبان کے ذہنی خیالات بدلنے کے طریقے

طالبان کے بھرتی کار نیم خواندہ، بے روزگار نوجوانوں کو اغوا کرنے یا بہلانے پھسلانے کے بعد انہیں پراپیگنڈا مواد پڑھنے کو دیتے ہیں اور جہادی وڈیوز دکھاتے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی پر کاربند ہو جائیں۔ وہ ان نوجوانوں کو یہ بات کبھی نہیں بتاتے کہ خودکش حملہ کرنے سے وہ اسلامی طریقے سے تدفین اور نماز جنازہ کی رسومات کے پیدائشی حق سے محروم ہو جائیں گے۔ وہ قرآن میں جنت میں جانے کی آیات کی غلط تشریح بھی کرتے ہیں۔

شاہ نے جذباتی انداز میں سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ یہ انتہائی المناک بات ہے کہ خودکش حملے کرنے والے نوجوانوں کے خیال میں وہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی کے لئے یہ کام کر رہے ہیں۔ حقیقت میں انہیں خدا کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں۔ خدائی احکامات کی نافرمانی کرتے ہوئے خودکش بمبار بننے کا انتخاب کرنے والے افراد کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

بھرتی کار نوجوانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہوئے ہدف بنائے جانے والے افراد کو "کافر" قرار دیتے ہیں اور انہیں موت کی سزا سنانے کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ یہ تربیت کار اپنے لڑکوں کی گمشدگی پر غمگین خاندانوں کو بتاتے ہیں کہ وہ "شہید" ہو چکے ہیں۔

خودکش بمباروں کا شرمناک انجام

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے شعبہ حادثات و ہنگامی صورت حال کے سربراہ ڈاکٹر شراق قیوم نے بتایا کہ حکام خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بننے والے افراد کی جسمانی باقیات کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی کارکن ڈی این اے کے ذریعے ناموں کی شناخت ہونے کے بعد پہلے دفنائے گئے افراد کو قبر سے نکال کر دوبارہ دفن کرتے ہیں۔

تاہم خودکش بمباروں کی جسمانی باقیات کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے پورے پاکستان میں جاری رواج کے حوالے سے کہا کہ ہم خودکش بمباروں کی باقیات کو کبھی دفن نہیں کرتے، انہیں فورنزک معائنوں کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر قیوم نے کہا کہ خودکش بمبار جنازے کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ عوام ان کی کارروائیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ خودکش بمباروں کی باقیات کی یہ توہین اس لحاظ سے انتہائی غیر معمولی ہے کہ پاکستان میں تو ایسے افراد کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے جو بیرون ملک انتقال کر گئے تھے اور ان کی لاشیں وطن واپس نہیں لائی جا سکتیں۔

شبقدر کے رہائشی رحیم اللہ نے کہا کہ خودکش بمبار کا کردار اختیار کرنا اسلام چھوڑنے کے مترادف ہے کیونکہ اس میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ رحیم اللہ کا 19 سالہ بیٹا قاری نقیب اللہ ایک خودکش بمبار تھا جس نے مارچ 2011 میں افغانستان کے شہر قندھار میں اتحادی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 10 فوجی جاں بحق ہو گئے تھے۔

چار سدہ کے علاقے سرخ ڈھیری کا رہائشی واحد اللہ جنوری 2008 میں لاپتہ ہو گیا۔ دو ماہ بعد طالبان عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے اس کے بزرگ والد جمعہ گل کو مطلع کیا کہ ان کا "شہید" بیٹا جنت میں چلا گیا ہے۔

والد نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ ایک دن علی الصبح طالبان نے جب مسجد میں داخل ہو کر مجھے یہ خبر سنائی تو پہلے مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ میری ناپسندیدگی کے باوجود وہ مجھے مبارک بادیں دیتے رہے مگر میں اپنے بیٹے کے اس اقدام پر اب بھی لعنت ملامت کر رہا ہوں۔

واحد اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کا سوگ تنہا ہی منایا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کی موت پر تعزیت کرنا رحم دلی کی ایک اہم نشانی ہے جس کا اظہار نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے پیروکاروں نے بھی کیا تھا مگر میں انتہائی بدقسمت ہوں کہ میرے اکلوتے بیٹے کی موت پر کسی شخص نے بھی تعزیت نہیں کی۔ لوگ خودکش حملوں کو ناپسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے کسی نے بھی میرے ساتھ تعزیت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اموات والدین کے لئے تکلیف کا باعث ہیں اور انہیں بالکل یہ امید نہیں ہے کہ اللہ خود کو دھماکے سے اڑانے اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ان کے بیٹوں پر کوئی رحم کرے گا۔

جمعہ گل نے مزید کہا کہ خودکش حملہ آوروں کے لئے کوئی شخص بھی "اللہ اس پر رحمت نازل کرے" یا "اس کی روح کو سکون پہنچائے" جیسے رحم دلانہ الفاظ نہیں کہتا جس سے ان کے اہل خانہ کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

اسلام میں خود کشی حرام ہونے کے باوجود وہ لوگ جو خود کشی کرتے ہیں رشتہ داروں سے رسم غسل، نماز جنازہ اور دفن ہوتے ہیں- لیکن خود کش بمبار جو دوسروں کو مارتے ہیں ان کو کویئ قبول نہي کرتا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق رسومات کی تردید ہوتی ہے، شاہ نے کہا

خودکش بمباروں کے اہل خانہ کو تمام زندگی ایک اور دکھ بھی جھیلنا پڑتا ہے اور وہ ان کی قبر کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے دوست رشتہ دار مغفرت کی دعا کرنے کے لئے نہیں جا سکتے۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 469)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 92 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • ہم مسلمان ہیں طالبان نہیں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں بچائے

    October 20, 2012 @ 01:10:29PM adnan zahoor
  • پاکستان کے لئے اچھی سروس

    October 20, 2012 @ 03:10:23AM muhamma ayaz
  • allah tmhare lmbi zindgi kry (AMEEN ) LONG LIVE LIFE

    October 12, 2012 @ 11:10:38AM annie
  • محمد اقبال کے تاثرات بہت قیمتی ہیں۔ لیکن، کیا ہم جانتے ہیں کہ ہم نے سب کچھ مولانا حضرات پر چھوڑ دیا ہے اور وہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ اگر آپ انکے جمعہ کے خطبات سنیں تو آپ آسانی سے جائز لے سکتے ہیں کہ ان کے ارادے کیا ہیں۔ عام دنوں میں وہ طالبان کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کی مدد کرنے اور ان کے ساتھ شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ محرم الحرام میں وہ لوگوں کو دوسرے فرقوں کے خلاف لڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہم نے کچھ کرنا ہے تو صرف خود ہی کرنا ہے۔ لوگوں کو یہ رتبہ ان مولانا حضرات سے واپس لینا چاہیے جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ مجھے کافی یقین ہے کہ اس قسم کے لوگ بیرونی قوتوں کی مدد کر رہے ہیں جو ہمارے پیارے ملک پاکستان کے خلاف ہیں۔ وہ پیارے پاکستان میں بلواسطہ یا بلاواسطہ، ارادی یا غیر ارادی طور پر ان قوتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ اللہ کے لئے آگے بڑھیں اور اس ملک کو بچائیں ورنہ ہمیں بھی بچانے کے لئے کوئی نہیں ہوگا۔

    October 12, 2012 @ 06:10:12AM Aamir
  • talban ...na to insan han or na he mosalman han in ko muslam khany wala be janwar ha moslam asay hoty han jb maro ga tab samaj aay gi Mr, talban he asal musalman hain, our aik ma batata chalon ki ye sab taliban nahi kar rahi, ye apki government kar rahi ha, taliban k naam pe jo b ho raha ha pakistan ma ye sab jot ha, our os talib ko main nahi manta jo aisa kaam karay jo pakistan our pakiani awam kay khilaf ho

    September 18, 2012 @ 07:09:42AM samad khan
  • جو لوگ دوسرے مسلمانوں کو مسجدوں میں، جنازوں میں، بازاروں میں قتل کر رہے ہیں انہیں مذہب سے کوئی سروکار نہیں۔ ان کے اعمال گواہی دے رہیں کہ یہ لوگ مسلمان نہیں اور دوسرے مسلمان ان کے ساتھ مناسب سلوک کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ انہیں بدترین جہنم میں پھینکے۔

    May 15, 2012 @ 08:05:46AM Mohammad Sawar Chaudry
  • میں معذور نوجوان اور بے روزگار ہوں۔ میرا تعلق نہایت غریب خاندان سے۔ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟

    May 8, 2012 @ 06:05:16AM nafis
  • میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اب ہم خودکش حملہ آّوروں کے بارے میں کیا سمجھتے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ حملہ آور یہ سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ ہم صرف پھل کھانے سے غرض رکھتے ہیں لیکن اس بات پر غور نہیں کرتے کہ یہ پھل کن درختوں سے لیا گیا ہے۔ یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ پھل ختم کر دو لیکن ہم ان درختوں کو کاٹنے کا کیوں نہیں سوچتے جہاں سے یہ پھل لیا جا رہا ہے۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ دہشتگردی کو نفرت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم واقعی اسے ختم کرنے کے خواہاں ہیں تو ہماری حکومت کو چاہیے کہ عوام سے جھوٹ بولنا ترک کر دے۔ یہ کہنا کہ خود کش حملہ کرنے والے اپنی جان دے کر اور لوگوں کی جانیں لے کر جنت میں جگہ پا لیتے ہیں محض ایک مذاق ہے۔ ان خاندانوں کے بارے میں سوچیں جن کے پیارے ان حملوں میں مارے جاتے ہیں۔ یہ مذہب کی نہیں سوچ کی جنگ ہے۔

    May 4, 2012 @ 01:05:32AM ibrar khan
  • زندگی میں کامیابی کی کبھی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہاں تو صرف موقع ملتے ہیں جنہیں آپ نے کامیابی میں تبدیل کرنا ہے۔

    April 30, 2012 @ 02:04:27PM waqas Danish
  • اسلام امن کا مذہب ہے اور امن کا مذہب کبھی کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ خود کشی کرنے والے لوگ دوزخ میں جائیں گے اور اس گناہ کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا۔ جو لوگ ہمارے بچوں کو خودکشی کے لیے تیار کر رہے ہیں وہ اسلام کے دشمن ہیں اور جلد ہی انہیں حقیقت کا علم ہو جائے گا۔ جب اللہ انہیں سزا دے گا۔

    April 29, 2012 @ 04:04:27AM arsalan
  • ذہن سازی کی یہ کارروائیاں نوآبادیاتی نظام والوں کی سوچ ہے۔ انہوں ںے مسلمانوں میں نفرت کے بیج بوئے جبکہ نوآبادیاتیاں خاموش تماشائی بنے رہے۔ مجھے امید ہے کہ مسلمان جلد ہی ہوش میں آ جائیں گے اور انتہاپسندوں کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ مزید ان کا استحصال کریں۔

    April 27, 2012 @ 07:04:20AM عبدالله
  • سچ ہے۔ جزاک اللہ

    April 26, 2012 @ 04:04:05AM kiran
  • خود کش حملوں کے بارے میں اس میں آرٹیکل میں لکھا تو سچ ہی ہے لیکن جو مسئلہ حل کرنے کا ہے وہ یہ کہ ایسے اخباروں میں مضامین لکھنے کا کیا تُک ہے، کیا خود کش حملہ آور اخبار پڑھتے یا ٹی وی دیکھنے؟ ایسی باتیں مساجد میں کی جانی چاہییں، جمعہ کے خطبے میں کی جانی چاہییں یا عوامی جلسوں میں تاکہ ایسے رحجانات رکھنے والوں کو ان کی الجھنوں کے جواب ملیں۔ اگر طالبان یا کوئی بھی اور ان بچوں کی ذہن سازی کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم دوبارہ ان کی ذہن سازی اپنے لحاظ سے کیوں نہیں کر سکتے۔

    April 24, 2012 @ 08:04:19AM [email protected]
  • مجھے محمد اقبال کی پیش کردہ تجویز پسند آئی ہے۔ اور صرف نظریاتی کام ہی نہیں کرنا چاہیے۔

    April 24, 2012 @ 03:04:24AM arzoo
  • مجھے پاکستان سے پیار ہے۔

    April 24, 2012 @ 03:04:35AM tan_yahoo$.com
  • مجھے یوں لگتا ہے جیسے خودکش حملہ آور شیطان کے غلبے میں ہیں اس لیے بھٹک گئے ہیں۔

    April 23, 2012 @ 01:04:58PM Aika
  • اسلام میں خودکشی حرام ہے اور خود کش حملہ آور اسلام کے دشمن ہیں اور ان کی سوچ اسلام سے متصادم ہے۔ اسلام معصوم لوگوں کے قتل کی کسی صورت اجازت نہیں ہے۔ بلکہ نبی پاک کی زندگی میں جہاد کے دوران درخت کاٹنے تک کی ممانعت تھی اور پھر انسانوں کے قتل کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ مسلمان ملکوں کی حکومتوں کو مذہبی انتہا پسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاییے اور ایسے ملکوں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں جو ایسے گروپوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

    April 22, 2012 @ 03:04:50PM AMEER AHMED
  • اچھا ہے

    April 22, 2012 @ 09:04:39AM ubaidullah
  • agr pakistan chaha to dahsht grdi khtam ho skti ha

    April 22, 2012 @ 04:04:25AM sajjad ali
  • talban ...na to insan han or na he mosalman han in ko muslam khany wala be janwar ha moslam asay hoty han jb maro ga tab samaj aay gi

    April 20, 2012 @ 10:04:58PM zulfiqarahmad
  • islam to hamain aman or yakjahti ka pagham deta hai

    April 20, 2012 @ 02:04:52AM mahmood
  • علماء ان خود کش حملوں کے بارے میں بالکل درست کہتے ہیں۔ اسلام ایسے مکروہ کاموں کی مذمت کرتا ہے اور انہیں مسترد کرتا ہے۔ مزید یہ کہ کوئی بھی مذہب ایسے جرائم کی اجازت نہیں دے گا۔ یہاں میں قارئین سے ایک سوال کرنا چاہوں گا کہ وہ کس حد تک طالبان کے طریقہ کار سے متفق ہیں۔ بلکہ جواب تو اسی سوال میں ہے اور سب پر واضح ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طالبان کے پیچھے کون ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی مسلمان ملک ایسا نہیں کر سکتا اور جس طرح مغربی ممالک پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہیں طالبان بھی اس کے لیے ایسے ہی ناشکرے ثآبت ہوئے ہیں کیونکہ ان کی کارروائیوں سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہی ہوا۔ پاکستانیوں نے حالیہ برسوں میں چند افسوسناک ترین خودکش حملوں کا سامنا کیا ہے۔

    April 19, 2012 @ 01:04:28PM shakeel
  • خود کش حملوں کے بارے میں اس میں آرٹیکل میں لکھا تو سچ ہی ہے لیکن جو مسئلہ حل کرنے کا ہے وہ یہ کہ ایسے اخباروں میں مضامین لکھنے کا کیا تُک ہے، کیا خود کش حملہ آور اخبار پڑھتے یا ٹی وی دیکھنے؟ ایسی باتیں مساجد میں کی جانی چاہییں، جمعہ کے خطبے میں کی جانی چاہییں یا عوامی جلسوں میں تاکہ ایسے رحجانات رکھنے والوں کو ان کی الجھنوں کے جواب ملیں۔ اگر طالبان یا کوئی بھی اور ان بچوں کی ذہن سازی کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم دوبارہ ان کی ذہن سازی اپنے لحاظ سے کیوں نہیں کر سکتے۔

    April 17, 2012 @ 11:04:57PM Muhammad Iqbal
  • خودکشی اسلام میں ناقابل معافی گناہ ہے۔اس لیے خودکش حملہ آور کو اسلامی طریقے سے دفن نہیں کیا جا سکتا۔

    April 14, 2012 @ 02:04:14PM shahmasood
  • علماء ان خود کش حملوں کے بارے میں بالکل درست کہتے ہیں۔ اسلام ایسے مکروہ کاموں کی مذمت کرتا ہے اور انہیں مسترد کرتا ہے۔ مزید یہ کہ کوئی بھی مذہب ایسے جرائم کی اجازت نہیں دے گا۔ یہاں میں قارئین سے ایک سوال کرنا چاہوں گا کہ وہ کس حد تک طالبان کے طریقہ کار سے متفق ہیں۔ بلکہ جواب تو اسی سوال میں ہے اور سب پر واضح ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طالبان کے پیچھے کون ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی مسلمان ملک ایسا نہیں کر سکتا اور جس طرح مغربی ممالک پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہیں طالبان بھی اس کے لیے ایسے ہی ناشکرے ثآبت ہوئے ہیں کیونکہ ان کی کارروائیوں سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہی ہوا۔ پاکستانیوں نے حالیہ برسوں میں چند افسوسناک ترین خودکش حملوں کا سامنا کیا ہے۔

    April 11, 2012 @ 08:04:53AM Ayesha Khan
  • اگر یہ بیان پشاور کے علماء نے مسترد کر دیا ہے تو پھر مولوی حسن جان کو کس نے قتل کیا کیونکہ انہوں نے تو خود افغانستان میں امریکی فوج پر حملوں کی حمایت کی تھی۔ اور اگر یہ فرقہ پرستی کا شاخسانہ ہے تو یہ لوگ افغانستان میں مسلمانوں پر حملوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

    March 30, 2012 @ 12:03:49PM ahmad
  • مجھے یہ سٹوری بہت پسند آئی ہے۔ خودکش حملہ آور مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ہیں۔ یہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

    March 29, 2012 @ 06:03:22AM Muhamad Jamil