معین خان پاکستان کے بارے میں تاثر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے

نوجوان پاکستانی کا موٹرسائیکل پر دنیا کے گرد سفر 31 دسمبر کو لاہور میں ختم ہوا

عبدل ناصر خان

2012-01-04

لاہور - ایک نوجوان پاکستانی نے موٹر سائیکل پر دنیا کے گرد 40،000 کلومیٹر سفر 31 دسمبر کو لاہور میں مکمل کیا، لیکن وہ پاکستان کے بارے میں عالمی تاثر کو تبدیل کرنے کے لیے مزید کچھ کرنا چاہتا ہے۔

معین خان نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ میں نے دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان خراب ملک نہیں ہے، یہ کہ پاکستانی امن پسند لوگ ہیں، جیسا کہ دیگر ممالک کے لوگ ہیں۔

چوبیس سالہ سپورٹس موٹرسائیکلوں کے شوقین معین خان نے 10 جولائی کو سان فرانسسکو سے لاہور تک اپنے سفر کا آغاز کیا۔ وہ 21 ممالک سے گزر کر 21 دسمبر کو پاکستان میں داخل ہوا۔

معین نے بتایا کہ میں نے اپنا سفر سان فرانسسکو سے شروع کیا اور کینیڈا، جرمنی، اٹلی، رومانیہ، سلوواکیہ، سلوانیہ، یونان، فرانس، انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، موناکو، آسٹریا، چیک ریپبلک، سؤزرلینڈ، ہنگری، لیچٹنسٹین، ترکی سے گزرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد اس بات کو اجاگر کرنا تھا کہ سارے پاکستانی دہشتگرد اور شدت پسند نہیں ہیں۔ میرا مقصد پاکستان کے بارے میں عالمی تاثرات کو بہتر کرنا تھا۔ میں ہزاروں لوگوں سے ملا، ان سے بات چیت کی اور ان کے ساتھ رہا اور میرے خیال میں مجھے مثبت ردعمل حاصل کرنے میں کامیابی ہوئے کہ عام پاکستانی اچھے لوگ ہیں۔

معین نے ہونڈا سی بی آر 600 ایف4 آئی سپورٹس بائیک پر سان فرانسسکو کے گولڈن گیٹ برج سے سفر کا آغاز کیا۔ اسی شہر کی سان فرانسسکو سٹیٹ یونیورسٹی نے انہوں نے انٹرنیشنل بزنس ڈگری حاصل کی۔

معین خان کو رومانیہ میں حادثہ پیش آیا لیکن وہ ایک مہینے کے اندر صحت یاب ہو گیا۔

معین خان نے سینٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ مجھے رومانیہ میں بہت محبت ملی، رومانیہ کے لوگوں نے میرا بہت خیال رکھا۔ میں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں رہا اور 5 نومبر کو میں وہاں پر اپنی سالگرہ منائی۔

معین خان کا ٹھوکر نیاز بیگ، ملتان روڈ پر لاہور کے داخلی مرکز، پر گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ نوجوان موٹرسائیکل سواروں کے ایک گروہ نے لاہور تک آخری مرحلے میں اس کا ساتھ دیا۔

اسے ایکسپو سینٹر لایا گیا، جہاں اس کے لیے شاندار استقبالیہ کا انتظام کیا گیا تھا۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اس سے ملاقات کیلئے ایکسپو سینٹر میں موجود تھے۔

معین نے کہا کہ اسے دی جانے والی عزت اور پیار اسکی توقعات سے باہر ہے۔

اس نے کہا کہ جب میں نے سفر شروع کیا تو میرے پاس 9،000 ڈالر (806،000 روپے) تھے، جبکہ مجھے پورے سفر کے لیے 40،000 ڈالر (3.6 ملین روپے) درکار تھے۔ رومانیہ میں میرے پاس پیسے ختم ہوگئے تاہم میں ناامید نہیں ہوا؛ لوگوں نے مجھے چندہ دیا اور تمام ضروری اشیاء فراہم کیں۔

لوگوں نے مجھے رہائش، خوراک اور سپیئر پارٹس بھی فراہم کیے۔

معین 2012 کے دوران پاکستان میں قیام کریگا۔

معین نے اعلان کیا کہ میں پاکستان میں سائیکل سوار متعارف کرانے کی کوشش کرونگا اور اس شعبے میں پاکستانی خواتین کو تربیت دینا چاہتا ہوں۔ اس کھیل میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کو مفت تربیت اور سواری ملے گی۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 20)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • Sir ap bahot acha kam kar rahy hain......... but femail k liye jo step ly ahy hain wo koi acha kam nhi femails ko biks driving ki kya zaroorat he. ham aaj tak apni qom ko khas tor pe muslim comunity ko Femail (khawateen) ka jo asal muqam he clear nhi kar sky hain ham ne apni qom ko achi mothers deni hain achi sisters achi doughters achi teachers deni hain tab ham aurat ko us ka jaiz muqam de skty hain ap se iltemas he femail ko show peace na bnain modals na bnain ap ko Allah ne achy kam k liye chuna he us ko positive krain hmari qom ko femail bikers ki zaroorat nhi achi maaon ki zaroorat he plz think.

    February 5, 2012 @ 10:02:05AM Asif Mehmood Siddiqi
  • یہ آرٹیکل کے ذریعے مجھے اس شخص کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی ہے۔

    February 2, 2012 @ 01:02:48PM atiq
  • بہت خوب، اللہ آپ کو زندگی دے

    January 22, 2012 @ 10:01:37AM Henna